6 اشعار

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے

Dil mein utre na udaasi se bhari kehlaye

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے

«دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائےکوئی تو شام ہو ایسی جو نئی کہلائے

ایک آواز جو آنکھوں کے لیے چشمہ ہوایک احساس جو ہاتھوں کی چھڑی کہلائے

ہندسے، سوئیاں پھر میری کلائی پہ کھنچیںوقت دونوں کا ، گھڑی صرف تری کہلائے

اک نظر ہی میں اُسے دیکھ لیا ہے اتناآنکھ خالی بھی اگر ہو تو بھری کہلائے

داستاں بنتی گئی ، دیو میں ڈھلتا گیا مَیںاُس کی خواہش تھی کہ وہ خودبھی پری کہلائے

دل میں اُڑتا یہ اُداسی کا پرندہ ، شارقؔشاخِ لب پر کبھی بیٹھے تو ہنسی کہلائے

— سعید شارق