9 اشعار

رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں

Ranj ki biphri hui lehron se ladta raha main

رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں

«رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیںدل کے ساحل پہ کہیں بنتا / بگڑتا رہا مَیں

ایسا تنہا تھا کہ دو پَل کی رفاقت کے لیےاپنی تنہائی کے بھی پاؤں پکڑتا رہا مَیں

تیرے جاتے ہی مَیں اک سائے سے آباد ہُوااور بہت بار ہُوا ، یعنی اُجڑتا رہا مَیں

کبھی منظر، کبھی چہرے، کبھی آنسو، کبھی خوابکتنی لاشیں تھیں جو دو قبروں میں گڑتا رہا مَیں

جانے کس بات کا صدمہ تھا،(نہیں! اُس کا نہیں)کبھی خود سے کبھی اوروں سے جھگڑتا رہا مَیں

مجھ کو اندر سے جکڑتا رہا اک دروازہاور دروازے کو باہر سے جکڑتا رہا مَیں

کیسے کہتا کہ اب اسکیچ نہیں بنتا مجھ سےتوڑ کر سکّے یونہی پنسلیں گھڑتا رہا مَیں

دم بہ دم ، ہجر کا غم ، چاٹ گیا سارا نمخشک مٹّی کی طرح راہ میں جھڑتا رہا مَیں

جانے کس ہاتھ لگا ، کون سا دھاگہ، شارقؔاک سِرا کھنچتا رہا اور اُدھڑتا رہا مَیں

— سعید شارق