6 اشعار

نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہو

Neend toote to kisi khwab ki takraar na ho

نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہو

«نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہو» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہوکاش اس مرتبہ دیوار میں دیوار نہ ہو

وہی بے رنگ پرندے، وہی بے سمت اُڑانبھاگتا پھرتا ہوں جس سے یہ وہی ڈار نہ ہو!

کوئی پتّھر نہ لڑھک آئے دہانے پہ کہیں!یہ شبِ تار حقیقت میں سیہ غار نہ ہو!

گٹھڑیاں باندھوں تو رہ رہ کے خیال آتا ہےجو سنبھالا ہے وہ سب کچھ کہیں بے کار نہ ہو!

توڑنا چاہوں اندھیرے کی فصیلیں لیکنساتھ دینے کے لیے روشنی تیّار نہ ہو

اک خزانہ تو چھپا رکھا تھا خود میں ، شارقؔکہیں یہ سانس کسی سانپ کی پھنکار نہ ہو!

— سعید شارق