6 اشعار

گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہے

Ghata bhi dheere dheere apne par phaila rahi hai

گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہے

«گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہےبَلا کی تیرگی ہے اور مجھ میں چھا رہی ہے

کئی منظر بنے جاتے ہیں جزوِ کور چشمینظر کی اشتہا آنکھوں کی رونق کھا رہی ہے

بہت دن اوڑھے رکھا روشنی کے چیتھڑوں کواور اب اک شب مجھے اپنا بدن پہنا رہی ہے

کڑی دوپہر ہے اور حبس آلودہ ہوائیںوہ بارش ، جو بچا رکھی تھی، اب کام آ رہی ہے

کہاں اب وہ جزیرے ، کشتیاں ، ساحل ، سمندرفقط اک لہر ہے جو آج تک بہلا رہی ہے

جگہ دے بیٹھی تھی کمرے میں آئینے کو ، شارقؔسو اب تنہائی بھی میری طرح پچھتا رہی ہے

— سعید شارق