5 اشعار

کیا شام تھی روح کے نگر میں!

Kya shaam thi rooh ke nagar mein!

کیا شام تھی روح کے نگر میں!

«کیا شام تھی روح کے نگر میں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 26 سیکنڈ ہے۔

کیا شام تھی روح کے نگر میں!ہر زخم تھا حالتِ سفر میں

ویسے ہی مکیں، وہی خموشی!کیا فرق ہے مجھ میں اور کھنڈر میں!

سینے میں کسی کی یاد، جیسےمرتا ہُوا کوئی مور، تھر میں

آباد ہے ایک ایک آہٹکیا طرفہ مکاں ہیں سقف و دَر میں!

آتی رہی قہقہوں کی آوازجس وقت کوئی نہیں تھا گھر میں

— سعید شارق