6 اشعار

مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!

Main khala hota tha mujh ko kaisi duniya kar diya!

مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!

«مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!ذہن میں مکّہ بسایا، دِل مدینہ کر دیا

بادِ طیبہ نے جلا دی اِک نئی شمعِ یقیںاور سیہ پڑتے ہوئے دِل میں اُجالا کر دیا

چل پڑِیں مدح و ثنائے مُصطفیٰ کی کشتیاںکیسی بارش نے مجھے صحرا سے دریا کر دیا!

سخت کھاری ہو گیا تھا چشمہِ ہستی مِراعشق کی اِک بوند نے اِس کو بھی میٹھا کر دیا

دیکھتا رہتا ہوں اندھے پن میں بھی کُچھ قافلےدِید کی خواہش نے مجھ کو کیسا بینا کر دیا!

ڈُھونڈ لائی میرے ٹُکڑوں کو مدینے کی ہوااور مجھ بکھرے ہوئے کو پھر اکٹھا کر دیا

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں