9 اشعار

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں

Kasht-e-Diyar-e-Subah Se Taare Ugaoon Main

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں

«کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میںجی چاہتا ہے نت نئے منظر دکھاؤں میں

وہ شخص چیختا ہوا انبوہ بن چکاکس کس کو بولنے دوں کسے چپ کراؤں میں

اب تو ہنسی بھی ختم ہے افسردگی بھی ختملب بستۂ ازل تجھے کتنا ہنساؤں میں

اک خواب مثل اشک نکل آئے چشم سےدروازۂ گماں جو کبھی کھٹکھٹاؤں میں

تو آ چکا ہے دیکھ لیا مان بھی لیااب اور کیا کروں تجھے سر پر بٹھاؤں میں

کیا فرق پڑ سکے گا اندھیرے کی شرح میںکچھ دیر روشنی سے اگر بھر بھی جاؤں میں

خاموش رہ کہ پھر تری آواز سن سکوںنظروں سے دور جا کہ تجھے دیکھ پاؤں میں

آئینے اس طرح مجھے تکتا ہے کس لیےپہچان بھی لیا کہ تعارف کراؤں میں

شارقؔ ہر ایک شکل سے ملتی ہے کوئی شکلآخر بدن پہ کون سا چہرہ لگاؤں میں

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں