8 اشعار

کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!

Kya jaane kitna arsa lage meri bell mein!

کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!

«کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!مدّت سے قید ہوں کسی نادیدہ جیل میں

تِیلی جلا کے پھینکنے والا ہے، کوئی دُکھلت پت پڑی ہے زندگی، مٹّی کے تیل میں

لہریں ہنسی ہنسی میں اچانک بپھر گئیںاک ناؤ مجھ سے ڈُوب گئی کھیل کھیل میں

بڑھنے لگا ہے زیست کے اسٹال پر ہجومبِک ہی نہ جاؤں مَیں بھی کہِیں لُوٹ سیل میں!

اک یاد محوِ رقص ہوئی اور اِس طرح!سب کُچھ لُٹانا پڑ گیا صرف ایک ویل میں

شاخِ ابد پہ مجھ کو نشانہ بنا سکےاتنی لچک کہاں ہے زماں کی غلیل میں!

اب اپنے اپنے خواب کی بوگی میں قید ہیںبیٹھے تھے ساتھ ساتھ کبھی ایک ریل میں

کِس کِس جگہ سے مَیں تجھے پیچھے دھکیلتا!خُود کو کُچل دیا ہے، تری ریل پیل میں

— سعید شارق