پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے
کلام: سعید شارق
پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سےکیا بھرے گا ترا خلا مجھ سے!
ہاتھ اُٹھائے تھے بے دلی سے کیوں؟لوٹتے ہی لڑی دُعا مجھ سے
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سےکیا بھرے گا ترا خلا مجھ سے!
ہاتھ اُٹھائے تھے بے دلی سے کیوں؟لوٹتے ہی لڑی دُعا مجھ سے
جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتاچاہے مَیں ایک گُھونٹ ہی بھرتا
شور تھا شیشۂ سَماعت میںکون اِس میں تِری ہنسی بھرتا!
کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!بپھرے ہوئے عوام سے خطرہ ہے شاہ کو
پہلے تھا خوف دِل میں کسی تیغِ تیز کااور اب تہی نیام سے خطرہ ہے شاہ کو