8 اشعار

جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب

Jade ki sard sard hawa mein thitharti shab

جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب

«جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شبہاتھوں میں تپتے ہاتھ، لبوں پر سُلگتے لَب

کیسا نشہ ہے چُھوٹ کے بھی چُھوٹتا نہیں!پھر مجھ کو ہو رہی ہے مئے خواب کی طلب

کُچھ تو بتا فسردگی! کیا ہو گیا تجھے؟آیا تھا آج دل میں کوئی!۔۔کون؟ کیسے؟ کب؟

ٹھٹّھا اُڑاتی موجِ ہَوا کو یہ کیا پتا!ملتا ہے کس دِیے سے مِری راکھ کا نسب!

کانوں پہ ہاتھ رکھّے لرزتا ہوں رات دِنغم قہقہے لگاتا ہے، وہ بھی بلا سبب!

پہنا تھا جانے کِس لیے چشمہ شعور کا!پہلے تو کُچھ نظر نہیں آتا تھا اور اب۔۔۔

پِھر دِل میں گِر کے جل گئیں کُچھ تازہ خواہشیںپِھر کھا گیا ہے روٹیاں، تندور، سب کی سب!

یہ کہہ کے دُھوپ ٹُوٹ پڑی نخلِ زرد پربارش کا نام لیتا ہے؟ گُستاخ! بے ادب!

— سعید شارق