10 اشعار

ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا

Tarana, dil pe hai kunda, hamara

ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا

«ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارابناتی ہیں رگیں، نقشہ ہمارا

سفید اور سبز لگتی ہے ہر اک شےنظر پر نقش ہے جھنڈا ہمارا

سمندر ظرف ہیں ندیاں ہماریہے دریا دل ہر اک چشمہ ہمارا

ہمارے خواب اس میں تیرتے ہیںفقط صحرا نہیں صحرا ہمارا

چٹانیں کانپتی ہیں ڈر کے مارےحریفِ سنگ ہے شیشہ ہمارا

اسے مٹّی نہ کر دیں ہم تو کہنا!وہ روکے تو سہی رستہ ہمارا!

اُڑا لے جائیں گے ہم ساتھ اپنےاگر کُھلتا نہیں پنجرہ ہمارا

ہمیں سونے سے بڑھ کر قیمتی ہےبھلے مٹّی کا ہو سکّہ ہمارا

انہیں نوکِ ہلال اب چُبھ رہی ہے*کھٹکتا تھا جنہیں تارہ ہمارا

سنا ہے:اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاسو وقت آنے کو ہے اچّھا ہمارا

— سعید شارق