7 اشعار

جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کا

Jala hua hai na jaane kahan charagh us ka

جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کا

«جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کاکہ مجھ ہَوا کو بھی ملتا نہیں سراغ اُس کا

پٹخ دیا سرِ فرشِ فراق تو یہ کُھلامرے وجود سے لبریز تھا ایاغ اُس کا

نکل تو جاؤں دبے پاؤں ذہن سے لیکنمَیں کیا کروں کہ بہت تیز ہے دماغ اُس کا

یہ اور بات مجھے مور جیسا لگتا ہےبھٹک رہا ہے مرے جنگلوں میں زاغ اُس کا

مری نظر سے لگا تھا جو اُس کے چہرے پرکسی بھی طرح نہیں مٹ سکا وہ داغ اُس کا

وہ مجھ کو سوچنے لگتا ہے اور شدت سےکچھ اس لیے بھی گراں ہے مجھے، فراغ اُس کا

بہت سے پُھول مرے جیسے ہو چکے ،شارقاُجڑ رہا ہے بتدریج پائیں باغ اُس کا

— سعید شارق