6 اشعار

قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا

Qatra qatra nam-e-naadeeda utar jaane diya

قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا

«قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیامیں نے پیمانۂ افسردگی بھر جانے دِیا

اک شجر سے یہ توقع تھی کہ روکے گا مجھےاور اس نے بھی مجھے لوٹ کے گھر جانے دِیا

میرا جانا بھی ضروری تھا مگر سائے نےصرف سائے کو سرِ راہ گزر جانے دِیا

مجھے اندازہ تھا مَیں تھوڑا بہت ہوں اُس میںسو اُسے جمع کِیا، خود کو بکھر جانے دِیا

ایک شب روک دی اشکوں کی رسَد چپکے سےاور بیمار پڑی یاد کو مر جانے دِیا

اس تذبذب نے گھٹا رکھّی ہے رفتار مریپھر کہاں جاؤں گا مَیں؟ اُس نے اگر جانے دِیا!

— سعید شارق