5 اشعار

جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیں

Jis qadar batla raha hoon itni qeemat bhi nahin

جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیں

«جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیںایسی تنہائی کا ہدیہ تو محبت بھی نہیں

گھر کے اندر دُور چلتی گاڑیوں کا شور ہےگرچہ اب مجھ کو کہِیں جانے کی حاجت بھی نہیں

نیند کی گٹھڑی اُٹھائے پِھر رہی ہے تیرگیاور اک منظر جو آنکھوں کی ضرورت بھی نہیں

کوئی خُود چھانے تو چھانے خاکِ بینائی مگرکُچھ نہیں دیکھوں گا میں، ہاں! تیری صورت بھی نہیں

مانگتا رہتا ہوں اور پھر لے کے ٹلتا ہوں اسےگرچہ وہ لمحہ مِرے ہونے کی اُجرت بھی نہیں

— سعید شارق