7 اشعار

جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی

Jo cheez jahan jaise dhari thi wahin chhodi

جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی

«جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑیپِھر چل پڑی ہجرت کے لیے جنّتی جوڑی

اک حُکم پہ سُوئے حَبَشَہ ناؤ کو موڑااک حُکم پہ طیبہ کی طرف اُونٹنی موڑی

کیسے نظر انداز ہو اس پھول کا حصّہ!خُوشبو تو زیادہ ہے بھلے عُمر ہے تھوڑی

ہستی نے چُھوئے پاؤں کہ مت جاؤ رقّیہ!اور موت لجاجت سے پکڑتی رہی ٹھوڑی

اُس نُور کا ٹُکڑا ہے یہ مہتاب صِفَت رُخخُود جس کی زیارت کے لیے روشنی دوڑی

اصحاب رضی اللہ ہیں قرآن کے نزدیکچاہے کوئی لاتا رہے اب دُور کی کوڑی

کر تذکرہء آلِ محمد کُھلے دِل سےممکن ہے کہ ہو جائے تری قبر بھی چوڑی

— سعید شارق