9 اشعار

کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں!

Kaisa darwaza khatkhatata hoon!

کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں!

«کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں!اپنی دستک سے ٹُوٹ جاتا ہوں

کیا کروں! چیخ بھی نہیں سکتاخامشی سے صدا چباتا ہوں

وقت جاتاہےآگےآگے؟جائے!میں بھی کب پیچھے پیچھےآتا ہوں!

کون سا نام اور کیسا پتہ؟کوئی پُوچھے تو سر کھجاتا ہوں

پیاس لگتی ہے راکھ ہونے کیسو اسے آگ سے بُجھاتا ہوں

نیند کا خار جس قدر بھی چُبھےخواب کا پُھول توڑ لاتا ہوں

دل کا تندور سرد کیسے ہو!رنج کی لکڑیاں جلاتا ہوں

کتنا مشکل ہے زندگی کا سبق!یاد کرتے ہی بُھول جاتا ہوں

کاسہء چشم کیوں نہیں بھرتا!اب تو آواز بھی لگاتا ہوں

— سعید شارق