6 اشعار

میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!

Main kab ulajhta nahin, kab puzzle nahin hota!

میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!

«میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!وہ مسئلہ ہوں جو خود مجھ سے حَل نہیں ہوتا

عَجَب خزاں سے گُزَرتے ہیں میرے خواب کے پیڑکِسی کا سایہ اگر ہو تو پَھل نہیں ہوتا!

میں صُبح شام وہی دِن اُٹھائے پھِرتا ہوںقَدم لَرزتے نہیں، ہاتھ شَل نہیں ہوتا

مِلا کے دیکھ لیے ہیں خُوشی کے آمیزےیہ غَم کِسی بھی مُحَلِّل میں حَل نہیں ہوتا

کروں تو کیسے کروں طے یہ فاصلہ شَب کا!بَہُت چَلا ہوں میں خوابوں کے بَل، نہیں ہوتا!

کوئی سَمَجھ سکے دِل کو تو کر سکے ترمیمسو اس صَحیفے میں رَدّ و بَدَل نہیں ہوتا

— سعید شارق