5 اشعار

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا

Kaise shahron ko fana karta hua guzra tha

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا

«کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھامیرے سینے سے کبھی دشت بلا گزرا تھا

ایک پتھر تھا فقط مجھ کو کچلنے کے لیےایک لمحہ تھا جو اوروں سے جدا گزرا تھا

دھول کس وقت کی ہے یہ تو نہیں ہے معلومبس یہی یاد ہے اک قافلہ سا گزرا تھا

اک نظر پڑتے ہی دو لخت ہوا خواب مراکیسا شہکار تھا اور کتنا گیا گزرا تھا

یہ سلگتی ہوئی شاخیں یہ جھلستے ہوئے پھولموجۂ آہ تھا جو مثل ہوا گزرا تھا

— سعید شارق