6 اشعار

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے

Sulagte bujhte jazeeron pe nakhl jadti hai

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے

«سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے عمران غازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہےیہ موج روز نئی داستان گھڑتی ہے

لگے رہیں گے کہاں تک سکوت کے خیمےوہ شور ہے کہ طناب صدا اکھڑتی ہے

سلگ رہا ہے کسی سبز آگ میں وہ شجرجو ٹہنیوں کو ہلاؤں تو راکھ جھڑتی ہے

لپکتے ہیں انہی شانوں کو ڈھونڈتے دھاگےپڑے پڑے ہی کہیں کوئی شال ادھڑتی ہے

بہت گھنا ہی سہی نخل خواب کا سایہمگر یہ دھوپ جو چاروں طرف سے پڑتی ہے

یہ باغ دل ہے یہیں اک اداس شہزادیگلاب توڑتی ہے تتلیاں پکڑتی ہے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں