8 اشعار

خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیں

Khud hi phoota mere andar se koi beej kahin

خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیں

«خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیںاور پھر مجھ میں اُداسی کی جڑیں پھیل گئیں

دو گڑھے تھے جنہیں کچھ پانی سے بھر رکھا تھاتجھ سے پہلے مری آنکھیں ، مری آنکھیں تو نہ تھیں

ایسا لگتا ہے ابھی مجھ کو نگل جائے گیپاؤں رکھوں تو مجھے گھورنے لگتی ہے زمیں

وہ مکیں ہوں جسے ملتا ہی نہیں اپنا مکاںوہ مکاں ہوں جسے ملتا ہی نہیں اپنا مکیں

گھونٹ بھر بھی تری خواہش نہیں درکار مجھےمَیں تو پہلے ہی بہت سیر ہوں ، بس! اور نہیں

مَیں نے اک غم کے سیہ گھر میں قدم کیا رکھا!ان گنت روشنیاں میری طرف دوڑ پڑیں

اب تو بس آگ لگانے کی کسر رہ گئی ہےلکڑیاں اُوب چکیں ، جھونپڑیاں ٹُوٹ چکیں

ہاتھ ملتی ہوئی رہ جائیں گی آنکھیں ، شارقوہ کہیں اور چلا جائے گا مَیں اور کہیں

— سعید شارق