9 اشعار

تیری آواز میں، تیری ہی ہنسی، ہنستی ہے

Teri awaz mein, teri hi hansi, hansti hai

تیری آواز میں، تیری ہی ہنسی، ہنستی ہے

«تیری آواز میں، تیری ہی ہنسی، ہنستی ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

تیری آواز میں، تیری ہی ہنسی، ہنستی ہےمیری موجودگی پر تیری کمی ہنستی ہے

"کیوں، میاں! کیا ہُوا؟ دروازہ کُھلا؟ ہا ہا ہا"طعنے دیتے ہیں مکان اور گلی ہنستی ہے

چشمِ پُر خاک بھی اب ہونٹوں کی دیکھا دیکھی(گریہ بنتا ہے مگر) مجھ پہ یونہی ہنستی ہے

کیا کروں! کس کے گلے لگ کے مَیں دھاڑیں ماروں؟ایک تنہائی تھی سو دُور کھڑی ہنستی ہے

جیسے کہتی ہو، بھلا تجھ کو ضرورت کیسی؟وقت دیکھوں تو یہ لگتا ہے گھڑی ہنستی ہے

جب سے تُو آیا ہے چُپ چُپ سی ہے کیوں ویرانی ؟کیا ہُوا ہے اِسے؟ ویسے تو بڑی ہنستی ہے!

نیند پھرتی ہے مرے ساتھ مرے کمرے میںاور بے خوابی سرہانے سے لگی ہنستی ہے

قہقہے ہیں مرے سینے میں کہیں آنسو ہیںتیری تصویر کبھی روتی کبھی ہنستی ہے

بھپتیاں کستی ہے مجھ پر کبھی خود پر،شارقناؤ کا ذکر بھی چھیڑوں تو ندی ہنستی ہے

— سعید شارق