9 اشعار

خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَر

Khud khidkiyan khulne lagin, khud band hua dar

خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَر

«خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَر» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَرپِھر شام ہُوئی اور مُجھے کھانے لگا ڈر

مُدّت سے مئے ہَست چَکھی تک نہیں مَیں نےاِک جامِ تَہی روز ہی کہتا ہے: مُجھے بَھر!

اَب دِل میں کِسی یاد کا پَر تَک نہیں مِلتاوہ دِن بھی تھے مَوروں سے بَھرا رہتا تھا یہ تھر

ہر لَمحہ اُکھڑتے ہیں کبھی پاؤں، کبھی سانسیہ وقت کی چوٹی ہے، اِسے کون کرے سَر!

اِک سُوکھے ہُوئے غَم کی مَہَک آتی ہے مُجھ کومَیں توڑ نہ پاؤں گا اُداسی کا گُلِ تَر

چَل! چَل! یہ زَرِ خواب سَمیٹ اور نِکل جا!بازار نہیں ہے، یہ مِرا گھر ہے، مِرا گھر!

مَیں دیکھ رہا تھا یُونہی یادوں کی پَتنگیںیَک لَخت کوئی ڈور پِھری میرے گَلے پر

مَیں سامنے آتا ہوں تو کہتا ہے یہ سَیلاب:تُو راستہ روکے گا بے؟ چَل بھاگ! پَرے مَر!

اُس باغ میں سَو طرح کے گُل کھِل گئے ہوں گےاچّھا! تو مَیں چلتا ہوں۔۔۔قَفَس؟۔۔۔ اوہ! ۔۔۔مِرے پَر۔۔

— سعید شارق