3 اشعار

نکالنے کو،وہی روز و شب، دفینے سے

Nikalne ko, wohi roz-o-shab, dafeene se

نکالنے کو،وہی روز و شب، دفینے سے

«نکالنے کو،وہی روز و شب، دفینے سے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 26 سیکنڈ ہے۔

نکالنے کو،وہی روز و شب، دفینے سےاُتر رہا ہوں دبے پاؤں زینے زینے سے

نہ ہاتھ رکھنے سے کاغذ خموش ہو پایانہ شور گھٹ سکا لفظوں کے ہونٹ سینے سے

میں تیری یاد بھی دل سے نکالتا لیکنلپٹ چکا ہے کوئی اژدھا خزینے سے

— سعید شارق