5 اشعار

تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا

Teri rag rag mein zehr-e-gham utarna chahiye tha

تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا

«تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھاتُو کیسے بچ گیا ، تجھ کو تو مرنا چاہیے تھا!

بھلا یوں چھوڑ کر جاتا ہے اپنا آپ کوئی!اُسے ایک ایک کمرا خالی کرنا چاہیے تھا

یہ اُٹھتی دُھول یہ قدموں کی دھیمی دھیمی آہٹوہ رستہ میرے سینے سے گزرنا چاہیے تھا

تری نظروں کا مرہم اور یوں بے کار جائے!اگر یہ زخم ہے تو اِس کو بھرنا چاہیے تھا

جھکی جاتی ہے لفظوں کی کمر تو سوچتا ہوںمجھے یہ بوجھ خاموشی پہ دھرنا چاہیے تھا

— سعید شارق