6 اشعار

مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھے

Main apne aqab mein hoon, gali hai mere peechhe

مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھے

«مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھےاک گُزری ہوئی شام کھڑی ہے مِرے پیچھے

کب تھک کے گروں اور مِرے اُوپر سے گزر جائے!اک راہگزر کب سے پڑی ہے مِرے پیچھے

وہ دِن بھی عبث لوٹ کے آیا مِری خاطریہ شب بھی یونہی خوار ہوئی ہے مِرے پیچھے

اک بار پلٹ کر نہیں دیکھی تھیں وہ آنکھیںہر وقت یہ لگتا ہے، کوئی ہے مِرے پیچھے!

مَیں دشتِ بلا ہی سہی، ساحل تھا کسی کااک ناؤ کہیں ڈُوب گئی ہے مِرے پیچھے

کانوں میں یونہی اُنگلیاں ٹھونسے رہوں کب تک!رَہ بُھولی ہوئی کوئی ہنسی ہے مِرے پیچھے

— سعید شارق