11 اشعار

سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ

Salar-e-sipah bhi hain, wazeer-e-shah-e-alam

سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ

«سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐپہلے ہوں کہ چوتھے، وہ خلیفہ ہیں مُعظّم

کس طرح نہ دیکھیں حدِ بینائی سے آگے!جن آنکھوں پہ خود صاحبِ قرآںؐ نے کِیا دَم

مدحت کے جریدے میں اُنھیؓ کے لیے مضموناخبارِ مودّت میں اُنھیؓ کے لیے کالم

اُس وقت سے وہ حیدرِ کرّارؓ ہیں، جس وقتبوبکر ؓ تھے صدّیق نہ فاروقؓ تھے اعظم

میداں میں ابھی شیر دَہاڑا بھی نہیں تھا!بھاگ اُٹھّے سگاں، گُرگ و پلنگاں نے کِیا رَم

کٹتے رہے تلوار سے کُفّار ، لگاتارپھر اس کو اشارہ کِیا حیدرؓ نے: ذرا تھم!

آقاؐ نے تھمایا تھا جسے ہاتھ میں اُن کےلہراتا ہے اب تک مِرے دل میں وہی پرچم

ہے اُنؓ کی ولایت پہ نبّوت کو بھی اصرارموسیٰؑ ہوں کہ عیسیٰؑ ہوں، براہیمؑ کہ آدمؑ

اس بار بھی ویسا ہی تھا اکّیسواں روزہخامے کا گلا خُشک تھا، قرطاس رہا نم

مولاؓ! تجھے ملنے کو ترستی رہیں خوشیاںہر سمت ترا رنج تھا، ہر سمت ترا غم

کیا کیا لِکھوں؟ اور کیسے لِکھوں؟ لفظ نہیں ہیںدراصل۔۔ مگر۔۔۔ اس لیے۔۔گرچہ۔۔۔علیؓ۔۔۔تاہم۔۔۔

— سعید شارق