7 اشعار

یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے!

Yeh sher luqma-e-gurg-e-fana na ban jaaye!

یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے!

«یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 9 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے!کہیں غزہ بھی اسی کی غذا نہ بن جائے!

بدل رہے ہیں خدوخال میرے لفظوں کےسو ڈر رہا ہوں دُعا، بددُعا نہ بن جائے

جلا نہ دے کہیں تیزاب ساری دنیا کو!یہ دُودِ آہ برستی گھٹا نہ بن جائے!

عقاب یُوں بھی تو اپنی شناخت بُھول چکاسو ڈرتے ڈرتے کہیں فاختہ نہ بن جائے!

شہید ہونے لگے سب کے اکبر و اصغر!یہ کائنات کہیں کربلا نہ بن جائے!

جُھلس نہ جائیں کہیں شعلہء نوا سے ہم!یہ سرد چُپ کہیں جلتی صدا نہ بن جائے!

لگام ڈال دے نمرودِ نو کو بھی مالک!یہ بے لحاظ کسی دن خُدا نہ بن جائے!

— سعید شارق