6 اشعار

مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں!

Mujh mein jitne bhi tere shehr hain, barbaad karoon!

مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں!

«مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں!سوچتا ہوں کہ نئی بستیاں آباد کروں

چُپ ہی بیٹھا رہے، مجھ پر کوئی پھبتی نہ کَسےمیرے بس میں ہو تو وہ آئنہ ایجاد کروں

قفسِ دِل میں جگہ ایک ہی طائر کی ہےمَیں کسے قید کروں اور کسے آزاد کروں!

خُود سے چُھپ کر تجھے سونپ آیا کلیدِ زنداںاور کس طرح بھلا مَیں تری امداد کروں!

نخلِ غم کے لیے ناکافی رہا ہجر تراکیوں نہ اس کے لیے تیّار نئی کھاد کروں!

وقت کی گاچنی ملتی ہی نہیں ہے مجھ کوکون سی تختی پہ لکھ کر مَیں تجھے یاد کروں!

— سعید شارق