8 اشعار

سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوں

Sabhi samajhte hain ab bhi akad ke chalta hoon

سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوں

«سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوںاگرچہ ہجر کی لاٹھی پکڑ کے چلتا ہوں

یہ تیرگی سے بھرا شہر، یہ سیہ مہتابیہیں پہنچتا ہوں گر صبح تڑکے چلتا ہوں

ترے بغیر کہاں کا سفر! مگر پھر بھیمَیں اپنے پیروں سے اب لڑ جھگڑ کے چلتا ہوں

یہ دشتِ ہست ، یہ بیساکھیاں، یہ گردِ ملالمَیں رات دن یونہی ایڑھی رگڑ کے چلتا ہوں

پلٹ کے آئے نہ آئے نَفَس، خدا حافظ!دوبارہ دِل کبھی دھڑکے نہ دھڑکے، چلتا ہوں!

یہی حضر ہے مِرا اور یہی سفر ہے مِرامَیں ایک خواب کی دلدل میں گڑ کے، چلتا ہوں

تجھے بھی راکھ نہ کر بیٹھوں اپنے ساتھ کہیں!سو اس سے قبل کہ آگ اور بھڑکے، چلتا ہوں!

وہ باغ میری طرف آئے بھی تو کیوں، شارقؔمَیں خود ہی وقت کی ٹہنی سے جھڑ کے چلتا ہوں

— سعید شارق