5 اشعار

نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے

Nikaalne ko wahi roz o shab dafeene se

نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے

«نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سےاتر رہا ہوں دبے پاؤں زینے زینے سے

نہ ہاتھ رکھنے سے کاغذ خموش ہو پایانہ شور گھٹ سکا لفظوں کے ہونٹ سینے سے

مجھے تو کیا مری آنکھوں کو بھی خبر نہ ہوئیبکھر رہا تھا مرا خواب کس قرینے سے

خبر نہ تھی کہ جھکا دے گا میرے شانوں کوجو بوجھ گھٹتا چلا جا رہا تھا سینے سے

میں تیری یاد بھی دل سے نکالتا لیکنلپٹ چکا ہے کوئی اژدہا خزینے سے

— سعید شارق