5 اشعار

خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں

Khaak hoti hui lehron ki ham-aaghoshi mein

خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں

«خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میںڈوبتا جاتا ہوں دریائے فراموشی میں

کبھی سناٹے کی تصویر کبھی چاپ کا عکسکتنے منظر نظر آئے ہمہ تن گوشی میں

تیری آنکھیں ہیں نہاں میرے خد و خال کے ساتھتیری آواز چھپی ہے مری خاموشی میں

ڈھانپ سکتا تھا میں سینے کا کنواں بھی لیکنخرچ ہوتا رہا آنکھوں کی خلا پوشی میں

چٹکیاں کاٹتی ہے روح بدن میں شارقؔچیختا ہے کوئی سایہ کبھی سرگوشی میں

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں