6 اشعار

قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہے

Qadam qadam pe tere hijr ki chadhai hai

قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہے

«قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہےصدا کا موڑ ہے اور خامشی کی کھائی ہے

عروسِ ہست! یہ پژ مُردہ پھول تیرے لیےمِری طرف سے یہی تیری مُنہ دِکھائی ہے

عجب نہیں وہ دِیا تیرگی سُنانے لگےتمام عُمر جسے روشنی پڑھائی ہے

زباں کو ذائقہ ہاتھوں کو لمس چاہیے تھانِگاہ شاخ سے وہ سیب توڑ لائی ہے

بھڑکتی ہی نہیں افسردگی کی آگ کبھییہ تیرا دُکھ ہے کہ گیلی دِیا سلائی ہے!

بدل نہ دے وہ کہیں مجھ کو رات میں، شارِقمِری گرفت میں جس شام کی کلائی ہے

— سعید شارق