8 اشعار

سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہے

Sarashk o khoon ke siwa kahin kuch raqam nahin hai

سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہے

«سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہےجو روشنائی طلب ہو یہ وہ قلم نہیں ہے

ہر ایک آنسو پہ کیوں نہ الحمدللّٰہ* بولوں؟تو کیا یہ توفیقِ گریہ رب کا کرم نہیں ہے؟

کھنچا چلا جا رہا ہوں میں کربلا کی جانبسوائے ابرِ فغاں کوئی ہم قدم نہیں ہے

نہ جانے کتنا وسیع ہے آسمانِ مدحت!پرندِ فن میں اب اور اُڑنے کا دم نہیں ہے

ہے کون سا صفحہ، خشک ہوں جس کے گال اب تک!ہے کون سا لفظ جس کی آنکھوں میں نم نہیں ہے!

حجاب و حزم و ادب کو ملحوظ رکھیے صاحب!حسینؑ کا غم ہے یہ کوئی عام غم نہیں ہے

شہید زندہ ہیں، جانتا بھی ہوں مانتا بھیمگر جو ان پر ستم ہُوا وہ بھی کم نہیں ہے

جو دل میں لہرا رہا ہے پرچم، وہ کون دیکھے!بھلے مرے گھر کی چھت پہ تیرا ؓ علم نہیں ہے

— سعید شارق