8 اشعار

سینے میں اِک کتاب ہے کب سے کُھلی پڑی!

Seene mein ik kitab hai kab se khuli paṛi!

سینے میں اِک کتاب ہے کب سے کُھلی پڑی!صفحے اُلٹتی رہتی ہے افسردگی، پڑی

جُوں ہی خیال آیا کسی کارگاہ کاناگاہ میرے کُوزہء جاں پر جِھری پڑی

کٹ جاتی اس کی دھار سے خُود ہی نیامِ چشمناچار مجھ کو تیغِ نظر کھینچنی پڑی

ہر خواب قتل کرنا پڑا اپنے ہاتھ سےاور ایک ایک قبر بھی خُود کھودنی پڑی

چمکا گئی ہے مجھ کو اندھیرے کی اِک کرنجانے بنے گا کیا جو کبھی روشنی پڑی!

جی کٹ کے رہ گیا اسے پامال دیکھ کراِک تو تمھاری یاد، پِھر ایسی گِری پڑی؟

گُزرا تھا کیسا ابر، سرِ کوہسارِ دِل!پڑتے ہی تیز دُھوپ، ذرا برف بھی پڑی

کیا یاد رہتا مدرسہء دہر کا سبق!مَیں اپنے دھیان میں تھا کہ یکدم چھڑی پڑی

— سعید شارق