10 اشعار

کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!

Kab sabqa ghulaam se khatra hai shah ko!

کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!

«کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!بپھرے ہوئے عوام سے خطرہ ہے شاہ کو

پہلے تھا خوف دِل میں کسی تیغِ تیز کااور اب تہی نیام سے خطرہ ہے شاہ کو

جاں کی امان پاؤں تو کُچھ کہنے دیجیے:اِس جبری احترام سے خطرہ ہے شاہ کو

تکتے ہیں کیسی خشمگیں نظروں سے دورِ جام!خدّامِ تشنہ کام سے خطرہ ہے شاہ کو

جس طرح آگے بڑھنے لگی ہے یہ داستانلگتا ہے اختتام سے خطرہ ہے شاہ کو

دیکھو! کوئی خمیدہ کمر سر اُٹھا نہ لے!سجدے نہیں، قیام سے خطرہ ہے شاہ کو

کہتا ہے چیخ چیخ کے دروازہء محل:دیوار و سقف و بام سے خطرہ ہے شاہ کو

ہم تو نمک حلال ہیں اور سگ مثال ہیںکِس نطفہء حرام سے خطرہ ہے شاہ کو؟

کیا جانیے بھڑک اُٹھے کب کون سا چراغ!ہر ڈھلنے والی شام سے خطرہ ہے شاہ کو

میں تو غزل سرا ہوں فقط شوقِ شعر میںکیا مجھ سے خوش کلام سے خطرہ ہے شاہ کو!

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں