8 اشعار

سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے

Seene mein panje gaad ke, gardan daboch ke

سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے

«سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کےکھانے لگا ہے وقت مجھے نوچ نوچ کے

تِتلی نہیں ہے تُو! کہ تُجھے زِندہ چھوڑ دیںچل! چل! حقوق ہوتے نہیں کاکروچ کے!

یکدم کسی کی یاد نے تھاما ہے میرا ہاتھاب کیسے کیسے فائدے ہوتے ہیں موچ کے!

جس کی بریک فیل ہے، ٹائر گھِسے پِٹےہم سب مسافران ہیں اِک ایسی کوچ کے

اِک شب جھپٹ پڑی تھی اچانک، فسردگیاب تک نشان ہیں مِرے دل پر کھروچ کے

رانجھا ہو چاہے پنّوں ہو، سانجھا ہے سب کا دردپنجابی کے بھی دُکھ ہیں، جو دُکھ ہیں بلوچ کے

جی چاہتا ہے بھاگتا جاؤں کسی بھی سمتکب تک قدم اُٹھائے کوئی، سوچ سوچ کے!

پکّی سڑک سے دُور، کسی کچّے گھر کے پاساِک رِکشہ خواب دیکھتا ہے کارپوچ کے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں