آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!
کلام: سعید شارق
آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!نابینا ہو گیا ہوں تری آگ تاپ کے
دستک، سکوت، چیخ، صدا، شور، بازگشتکیا کیا ہیں نام اب ترے قدموں کی چاپ کے!
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!نابینا ہو گیا ہوں تری آگ تاپ کے
دستک، سکوت، چیخ، صدا، شور، بازگشتکیا کیا ہیں نام اب ترے قدموں کی چاپ کے!
سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کےکھانے لگا ہے وقت مجھے نوچ نوچ کے
تِتلی نہیں ہے تُو! کہ تُجھے زِندہ چھوڑ دیںچل! چل! حقوق ہوتے نہیں کاکروچ کے!