7 اشعار

اب مجھ کو کیا خبر وہ یہاں ہے بھی یا نہیں

Ab mujh ko kya khabar woh yahan hai bhi ya nahin

اب مجھ کو کیا خبر وہ یہاں ہے بھی یا نہیں

«اب مجھ کو کیا خبر وہ یہاں ہے بھی یا نہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اب مجھ کو کیا خبر وہ یہاں ہے بھی یا نہیںہر اک سے شہر میں تو مرا رابطہ نہیں

جنت بنا تو سکتے ہیں اس کائنات کولیکن مری طرح سے کوئی سوچتا نہیں

جس رہ گزر پہ پھول سجے ہیں مرے لیےاے پائے شوق اب وہ مرا راستہ نہیں

ظاہر سے مطمئن ہے مرے اور اک نقابچہرے پہ جو پڑا ہے اسے دیکھتا نہیں

جب تک تھی دل میں سانس بھی خوشبو بنی رہیہونٹوں پہ آ کے بات میں اب کچھ رہا نہیں

اک وقت تھا کہ راہ گزرنا محال تھااب مڑ کے راستے میں کوئی دیکھتا نہیں

اب شام ہو گئی ہے مجھے سونا چاہئےسورج ترے خیال کا گرچہ ڈھلا نہیں

— شبنم شکیل