6 اشعار

اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو

Ab mujh ko rukhsat hona hai kuchh mera haar singhaar karo

اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو

«اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کروکیوں دیر لگاتی ہو سکھیو جلدی سے مجھے تیار کرو

رو رو کر آنکھیں لال ہوئیں تم کیوں سکھیو بے حال ہوئیںاب ڈولی اٹھنے والی ہے لو آؤ مجھ کو پیار کرو

یہ کیسا انوکھا جوڑا ہے جو آج مجھے پہنایا ہےمیں حوروں جیسی دلہن بنی اب اٹھو اور دیدار کرو

اک ہار ہے سرخ گلابوں کا اک چادر سرخ گلابوں کیاور کتنا روپ چڑھا مجھ پر اس بات کا تو اقرار کرو

اک بار یہاں سے جاؤں گی میں لوٹ کے پھر کب آؤں گیتم آہ و زاری لاکھ کرو تم منت سو سو بار کرو

ہاں یاد آیا اس بستی میں کچھ دیے جلائے تھے میں نےتم ان کو بجھنے مت دینا بس یہ وعدہ اک بار کرو

— شبنم شکیل