9 اشعار

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے

Qafas ko le ke udna pad raha hai

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے

«قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہےیہ سودا مجھ کو مہنگا پڑ رہا ہے

مری ہر اک مسافت رائیگاں تھیمجھے تسلیم کرنا پڑ رہا ہے

سنا ہے ایک جادو ہے محبتیہ جادو ہے تو الٹا پڑ رہا ہے

محبت ہے ہمیں اک دوسرے سےیہ آپس میں بتانا پڑ رہا ہے

جو رہنا چاہتا ہے لا تعلقتعلق اس سے رکھنا پڑ رہا ہے

سمجھتی تھی بہت آسان جن کوانہیں کاموں میں رخنہ پڑ رہا ہے

ہوئی جاتی ہے پھر کیوں دور منزلمرا پاؤں تو سیدھا پڑ رہا ہے

میں کن لوگوں سے ملنا چاہتی تھییہ کن لوگوں سے ملنا پڑ رہا ہے

میں اب تک مر نہیں پائی ہوں شبنمؔسو اب تک مجھ کو جینا پڑ رہا ہے

— شبنم شکیل