7 اشعار

اکثر اپنے در پئے آزار ہو جاتے ہیں ہم

Aksar apne dar pe-e-aazaar ho jaate hain hum

اکثر اپنے در پئے آزار ہو جاتے ہیں ہم

«اکثر اپنے در پئے آزار ہو جاتے ہیں ہم» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اکثر اپنے در پئے آزار ہو جاتے ہیں ہمسوچتے ہیں اس قدر بیمار ہو جاتے ہیں ہم

مضطرب ٹھہرے سو شب میں دیر سے آتی ہے نیندصبح سے پہلے مگر بیدار ہو جاتے ہیں ہم

نام کی خواہش ہمیں کرتی ہے سرگرم عملاس عمل سے بھی مگر بیزار ہو جاتے ہیں ہم

جھوٹا وعدہ بھی اگر کرتی ہے ملنے کا خوشیوقت سے پہلے بہت تیار ہو جاتے ہیں ہم

بھول کر وہ بخش دے گر روشنی کی اک کرندائمی شہرت کے دعویدار ہو جاتے ہیں ہم

مطمئن ہونا بھی اپنے بے خبر ہونے سے ہےبے سکوں ہوتے ہیں جب ہشیار ہو جاتے ہیں ہم

اک ذرا سی بات اور پھر اشک تھمتے ہی نہیںلہر سی اک دل میں اور سرشار ہو جاتے ہیں ہم

— شبنم شکیل