5 اشعار

دوستوں کا ذکر کیا دشمن ہیں جب بدلے ہوئے

Doston ka zikr kya dushman hain jab badle hue

دوستوں کا ذکر کیا دشمن ہیں جب بدلے ہوئے

«دوستوں کا ذکر کیا دشمن ہیں جب بدلے ہوئے» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دوستوں کا ذکر کیا دشمن ہیں جب بدلے ہوئےشہر میں تو اب نظر آتے ہیں سب بدلے ہوئے

زیست کے ادوار کتنے مختلف سے ہو گئےسال و مہ ٹھہرے ہوئے اور روز و شب بدلے ہوئے

کس کی دل جوئی کریں کس کو مبارک باد دیںجب خوشی اور غم کے ہوں یکسر سبب بدلے ہوئے

اک پرانا راستہ اب کس طرح ڈھونڈے کوئیشہر بھر کے سب گلی کوچے ہوں جب بدلے ہوئے

روز و شب کی گردشیں دل کو بدل پائی نہیںآئینے میں گرچہ ہیں رخسار و لب بدلے ہوئے

— شبنم شکیل