7 اشعار

بات ایما و اشارت سے بڑھی آپ ہی آپ

Baat ema o isharat se badhi aap hi aap

بات ایما و اشارت سے بڑھی آپ ہی آپ

«بات ایما و اشارت سے بڑھی آپ ہی آپ» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

بات ایما و اشارت سے بڑھی آپ ہی آپاس کی قربت میں بہلنے لگا جی آپ ہی آپ

تازہ کلیوں کے تبسم کا سبب کیا ہوگاآیا کرتی ہے جوانی میں ہنسی آپ ہی آپ

زرد ہاتھوں پہ محبت کی لہو رنگ حناوقت آیا تو رچی اور رچی آپ ہی آپ

بس کہ رکھا تھا مکاں مدتوں تم نے خالیاس میں بد روح کوئی بسنے لگی آپ ہی آپ

راکھ بنتے وہی چہرہ نہیں دیکھا جاتاجس کے شعلے کی کبھی دھوم مچی آپ ہی آپ

بنت حوا کسی چہرے سے نہ دھوکا کھائےکینچلی سانپ بدلتا ہے نئی آپ ہی آپ

کاش ایسا بھی ہو قیمت نہ ادا کرنی پڑےاور مل جائے مجھے کوئی خوشی آپ ہی آپ

— شبنم شکیل