8 اشعار

بدل چکی ہے ہر اک یاد اپنی صورت بھی

Badal chuki hai har ek yaad apni soorat bhi

بدل چکی ہے ہر اک یاد اپنی صورت بھی

«بدل چکی ہے ہر اک یاد اپنی صورت بھی» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

بدل چکی ہے ہر اک یاد اپنی صورت بھیوہ عہد رفتہ کا ہر خواب ہر حقیقت بھی

کچھ ان کے کام نکلتے ہیں دشمنی میں مریمیں دشمنوں کی ہمیشہ سے ہوں ضرورت بھی

کسی بھی لفظ نے تھاما نہیں ہے ہاتھ مرامیں پڑھ کے دیکھ چکی آخری عبارت بھی

یہ جس نے روک لیا مجھ کو آگے بڑھنے سےوہ میری بے غرضی تھی مری ضرورت بھی

مری شکستہ دلی ہی بروئے کار آئیوگرنہ وقت تو کرتا نہیں رعایت بھی

میں اپنی بات کسی سے بھی کر نہ پاؤں گیمجھے تباہ کرے گی یہ میری عادت بھی

میں کیسے بات بھلا دل کی مان لوں شبنمؔکہ اس کو مجھ سے محبت بھی تھی عداوت بھی

یہ میرا عجز کہ دل میں اسے اترنے دیایہ اس کا مان کہ مانگی نہیں اجازت بھی

— شبنم شکیل