5 اشعار

در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں

Dar aaya andhera aankhon mein aur sab manzar dhundlaaye hain

در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں

«در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیںیہ وقت ہے دل کے ڈوبنے کا اور شام کے گہرے سائے ہیں

یہ ذرا ذرا سی خوشیاں بھی تو لاکھ جتن سے ملتی ہیںمت چھیڑو ریت گھروندوں کو کس مشکل سے بن پائے ہیں

وہ لمحہ دل کی اذیت کا تو گزر گیا اب سوچنے دوکیا کہنا ہوگا ان سے مجھے جو پرسش غم کو آئے ہیں

جلتی ہوئی شمعوں نے اکثر احساس کی راکھ کو بھڑکایاقربت میں دمکتے چہروں کی تنہائی کے دکھ یاد آئے ہیں

سوچوں کو تر و تازہ رکھا شبنمؔ ترے پیہم اشکوں نےحیرت ہے کہ عہد خزاں میں بھی یہ پھول نہیں کمھلائے ہیں

— شبنم شکیل