6 اشعار

سمٹ نہ پائے کہ ہر سو بکھر گئے تھے ہم

Simat na paaye ke har soo bikhar gaye the hum

سمٹ نہ پائے کہ ہر سو بکھر گئے تھے ہم

«سمٹ نہ پائے کہ ہر سو بکھر گئے تھے ہم» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

سمٹ نہ پائے کہ ہر سو بکھر گئے تھے ہمہجوم یاس میں کیا سوچ کر گئے تھے ہم

ہوئے تھے راکھ تو کچھ راستہ ہی ایسا تھادبی تھی آگ زمیں میں جدھر گئے تھے ہم

یہ کیا کہ پھر سے یہاں حکمرانئ شب ہےحصار شب تو ابھی توڑ کر گئے تھے ہم

وہ کیا خوشی تھی کہ برباد کر گئی سب کچھوہ کیسا غم تھا کہ جس سے سنور گئے تھے ہم

ملی تھیں پھر بھی وہ دیواریں اجنبی بن کراگرچہ شام سے پہلے ہی گھر گئے تھے ہم

گھرے تھے مصلحت اندیشیوں میں پوری طرحجو دل کا ساتھ نہ دیتے تو مر گئے تھے ہم

— شبنم شکیل