9 اشعار

موسم کے پاس کوئی خبر معتبر بھی ہو

Mausam ke paas koi khabar mo'atabar bhi ho

موسم کے پاس کوئی خبر معتبر بھی ہو

«موسم کے پاس کوئی خبر معتبر بھی ہو» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

موسم کے پاس کوئی خبر معتبر بھی ہوموج ہوا کے ساتھ ترا نامہ بر بھی ہو

سن لے گا تیری چاپ تو دھڑکے گا دیر تکلاکھ اپنے گرد و پیش سے دل بے خبر بھی ہو

ارزاں سے لوگ بھاگتے اس کو تو غم نہیںلازم نہیں کہ حسن میں حسن نظر بھی ہو

برسوں سے جس مکاں میں میری بود و باش ہےاب کیا یہ لازمی ہے وہی میرا گھر بھی ہو

سستائے جس کے سائے میں ہر آرزو مریاس دل کے صحن میں کوئی ایسا شجر بھی ہو

شہراہ روشنی پہ چلا ہے جو میرے ساتھتاریک راستوں میں مرا ہم سفر بھی ہو

کتنے ہی پھول چہرے دھواں بن کے رہ گئےاس سانحے سے کاش کوئی با خبر بھی ہو

اس کے لیے تو داؤ پہ خود کو لگا دیں ہمتدبیر وہ بتاؤ کہ جو کارگر بھی ہو

جاگے ہوئے گلوں ہی سے شبنمؔ کو پیار ہےممکن ہے کوئی شے ترے زیر اثر بھی ہو

— شبنم شکیل