6 اشعار

دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں

Dukh ka mantar padhi hui hoon

دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں

«دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوںمیں غربت میں بڑی ہوئی ہوں

ان میں وقت ہی ضائع ہوگاجن باتوں میں پڑی ہوئی ہوں

راج سنگھاسن ہے یہ میرایا سولی پر چڑھی ہوئی ہوں

آدھی ریت سے باہر ہوں میںآدھی ریت میں گڑھی ہوئی ہوں

آدھی مان چکی ہوں اس کیآدھی بات پہ اڑی ہوئی ہوں

مجھ کو گرانا سہل نہیں ہےاپنے سہارے کھڑی ہوئی ہوں

— شبنم شکیل