7 اشعار

ہم تو گواہ ہیں کہ غلط تھا لکھا گیا

Hum to gawah hain ke ghalat tha likha gaya

ہم تو گواہ ہیں کہ غلط تھا لکھا گیا

«ہم تو گواہ ہیں کہ غلط تھا لکھا گیا» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ہم تو گواہ ہیں کہ غلط تھا لکھا گیاکیا فیصلہ ہوا تھا مگر کیا لکھا گیا

یہ کیسی منصفی تھی کہ منصف کے روبروجھوٹی شہادتوں کو بھی سچا لکھا گیا

مکتوب غم ہمارا پڑھا ہی نہیں گیاورنہ تو اس میں حال تھا سارا لکھا گیا

ملزم کو بھی تو ملتا ہے کچھ بولنے کا حقپھر کیوں نہیں بیان ہمارا لکھا گیا

ہم چپ رہے کہ فیصلہ سارا تھا طے شدہیعنی جو مدعی نے لکھایا لکھا گیا

بنتی کسی بھی حرف کی پہچان کس طرحجو بھی لکھا گیا وہ ادھورا لکھا گیا

بھولی نہیں وہ ظلم کہ شبنمؔ سر فراتآتش کو آب دشت کو دریا لکھا گیا

— شبنم شکیل