7 اشعار

گئے برس کی یہی بات یادگار رہی

Gaye baras ki yahi baat yaadgaar rahi

گئے برس کی یہی بات یادگار رہی

«گئے برس کی یہی بات یادگار رہی» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

گئے برس کی یہی بات یادگار رہیفضا غموں کے لیے خوب سازگار رہی

اگرچہ فیصلہ ہر بار اپنے حق میں ہواسزائے جرم بہرحال بر قرار رہی

بدلتی دیکھیں وفاداریاں بھی وقت کے ساتھوفا جہاں کے لیے ایک کاروبار رہی

اب اپنی ذات سے بھی اعتماد ان کا اٹھاوہ جن کی بات کبھی حرف اعتبار رہی

خبر تھی گو اسے اب معجزے نہیں ہوتےحیات پھر بھی مگر محو انتظار رہی

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیریہ زیست اب نہ کسی کی بھی زیر بار رہی

یہ اور بات کہ دل غم میں خود کفیل ہوامگر وہ آنکھ مرے غم میں اشک بار رہی

— شبنم شکیل